Date: 17-12-17  Time: 22:48 PM

Author Topic: Dengue Information in Urdu  (Read 1860 times)

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 148
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
Dengue Information in Urdu
« on: November 07, 2011, 10:38:56 PM »
ڈینگی پھیلانے والے مچھر ایڈیز ایجپٹی کے بارے میں عمومی معلومات



ڈینگی بخار ایک وائرس سے ہوتا ہے جس
کو پھیلانے کا کام ایڈیز ایجِپٹی نسل کی مادہ مچھر کرتی ہے۔
یہ مچھر جراثیم کو بیمار انسان سے صحت مند انسان کے جسم میں منتقل کرتا ہے۔
اس مچھر کی زندگی ایک ماہ سے کم ہوتی ہے لیکن اس کے انڈے خشک حالت میں ایک سال سے زیادہ عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور بیمار مادہ مچھر سے ڈینگی کا وائرس انڈوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔
یہ مچھر عموماً صاف پانی کے چھوٹے ذخیروں جیسے پانے کے کھلے برتن، گملے، پرانے جوتوں یا ٹائروں، پلاسٹک یا ٹین کے پرانے ڈبوں، درخت کے تنے کے ساتھ سوراخوں، پانے سے بھرے زمین کے چھوٹے گڑھوں، دریائوں اور نالوں کے ساتھ پانی کے چھوٹے گڑھوں۔ پانی کی ٹینکیوں اور پانی کی ایسی اور کئی چھوٹی بڑی رکاوٹوں میں پلتا بڑھتا ہے۔ اس مچھر کی افزائشِ نسل خصوصاً برسات کے دنوں میں ہوتی ہے۔
یہ مچھر انسانی رہائش سے ۱۰۰ میٹر کے دائرے میں رہنا پسند کرتا ہے۔
یہ مچھر دن کو اوقات میں کاٹتا ہے خصوصاً صبح اور سرِ شام۔
یہ مچھر بھوں بھوں کی آواز نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے شکار کھیلتا ہے اور عموماً پشت سے یا پائوں کی طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔
اس مچھر کے حملے کا علم عموماً کاٹنے کی تکلیف سے ہوتا ہے اور جس وقت انسان کو اس کے کاٹنے کا پتہ چلتا ہے تو اس وقت یہ اپنا کام کر کے انسانی جسم سے کچھ دور محوِ پرواز ہوتا ہے۔
یہ مچھر کپڑوں کے اوپر سے بھی انسان کو کاٹ لیتا ہے۔
اس مچھر کا خاتمہ ڈینگی بخار پر قابو پانے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
اس مچھر کو ختم کرنے کے لیئے اس کی پیدائش کی جگہوں یعنی پانے کے چھوٹے ذخیروں کو گھروں کے آس پاس سے ختم کرنا ہو گا۔
کچھ تحقیقات کے مظابق ایک بیکٹیریا اس نسل کے مچھر میں اگر پھیلا دیا جائے تو اس میں ڈینگی کے وائرس کی پرورش رک جاتی ہے۔ اسی طرح جینیٹک انجینیرنگ کے ذریعے بھی اس مچھر میں کچھ تبدیلیاں لا کر اس کی افزائشِ نسل کو روکنے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ تازہ پانی کا ایک چھوٹا جاندار اس مچھر کے لاروے کھا کر اس کی افزائشِ نسل روکنے کا باعث بنتا ہے  ۔

Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik