Date: 27-05-17  Time: 18:51 PM

Author Topic: Diabetes Information by dr Wajih ذیابیطس کی معلومات از ڈاکٹر وجیہ   (Read 12357 times)

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
ذیابیطس کے مریض کے لئے اہم معلومات
ہماری یہ کوشش ہے کہ آپ کو اس مختصر مضمون میں ذیابیطس کے بارے میں چند بہت بنیادی مگر اہم باتیں بتائی جائیں۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس کو ڈاکٹر کی جگہ دے دیں اور آپ اپنا علاج خود کرنا شروع کردیں۔ آپ کو اگر ذیابیطس کا مرض ہے تو ایک مستند ڈاکٹر سے اپنا متواتر علاج کرواتے رہیئے ۔

اعداد و شمار

ذیابیطس کا مرض پاکستان میں بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔ اندازاً پاکستان میں 10 فیصد لوگ اس کا شکار ہیں۔ یہ ایک نہایت پریشان کن بات ہے۔ اگر پاکستان کی آبادی اب 18 کروڑ ہے تو اس میں غالباً پونے دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ذیابیطس کا مرض ہوگا۔

ذیابیطس سے متعلق جسم کی ساخت اور افعال۔

کسی بھی مرض کو سمجھنے کے لئیے ہمیں اس مرض سےمتعلقہ جسم کی ساخت اور اس کے افعال کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیابیطس چونکہ خوراک اور اس کے اجزاء سے متعلق مرض ہے لہذا ہمیں خوراک، نظام انہضام اور جسم کے خوراک کے اجزاء کواستعمال کرنے کے طریقے کو سمجھنا ہوگا۔

 
   نظام انہضام

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو اس کا مقصد خوراک کو ہضم کرکے اس سے توانائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہضم کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہےکھانے کو اتنے
چھوٹے ٹکڑوں میں پیس دینا اور کیمیائی طریقوں سے اتنے چھوٹے اجزاء میں تقسیم کردینا کہ وہ خون میں جذب ہو پائے۔خوراک کے تین  بڑے اجزاء ہوتے ہیں۔ کاربوہایڈررٹ :شکریات ، پروٹین: لحمیات، اورفیٹ :چکنائیاں۔ کاربوہایڈررٹ میں چینی، آٹا، نشاستہ ، پھل اور چاول وغیرہ آتے ہیں۔ تقریبا یًہ سب کاربوہایڈررٹ جب ہضم ہوتے ہیں تو جسم انہیں توڑ پھوڑ کر گلوکوز بنا دیتا ہے۔ گلوکوزایک طرح کی چینی ہوتی ہے۔ یہی وہ چینی ہے جو ذیابیطس میں خون میں بڑھ جاتی ہے۔ اور اسی چینی کو ذیابیطس کے مریض کے خون میں ناپا جاتاہے اور اسی چینی یعنی گلوکوز کو لوگ شوگر کہتے ہیں۔ کھانا منہ میں ہضم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ دانت کھانے کو پیستے ہیں اورتھوک کھانے کو مائع حالت میں لے آتا ہے ۔ منہ سے کھانا خوراک کی نالی کے راستے معدے میں پہنچتا ہے۔ معدہ خوراک کو بلو بلو کر اور پیستا ہے اور معدے کی تیزابی رطوبتیں کھانے اور اس میں شامل گوشت کو گلا کر اسے بالکل محلول بنا دیتی ہیں۔ معدے سے کھانا آنتوں میں پہنچتا ہے۔ جگر اپنی رطوبت، جسے صفراکہا جاتا ہے ،ایک نالی کے ذریعے آنتوں میں خارج کرتا ہے۔ صفرا کھانے کی چکنائی کو توڑ کر اسے پتلا کردیتا ہے۔پھر لبلبہ، جو کہ ایک غدود ہوتا ہے،اپنا رس آنتوں میں ڈالتا ہے جس سے کھانا کیمیائی عمل کے نتیجے میں بہت چھوٹے اجزاء میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ لبلبہ پیٹ میں آنتوں کے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ آنتوں کی دیواروں میں خون کی نالیاں ہوتی ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں۔ اُن سوراخوں میں سے پسا اور تقسیم ہوا کھانا چھن چھن کر خون کی نالیوں میں دوڑتے ہوئے خون میں جذب ہو جاتا ہے۔ یوں ہضم کرنے کا کام مکمل ہوتا ہے۔ شکریات یا کاربوہایڈررٹ اگر تو چھوٹی اور سادہ شکل میں ہوں تو انہیں مزید چھوٹا بنا کر ہضم کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ل ہذا یہ فوراً ہضم ہوکر خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور خون کی شوگر تیزی سے بڑھا دیتے ہیں۔ ایسے سادہ کاربوہایڈررٹ میں چینی، میدہ ، آلواورچاول غیرہ شامل ہیں۔ وہ شہد جو کہ جعلی طریقے سے ،یعنی مکھیوں کو چینی کا شیرہ پلا کر ،بنوایا جاتا ہے کا گلائیسمک انڈیکس بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خالص شہد کا گلائیسیمک انڈیکس ۵۸ ہوتا ہے۔ یہ بھی کچھ زیادہ ہے مگر پھر بھی قابلِ قبول ہے۔ ایسے کھانوں کو زیادہ گلائیسیمک والی خوراک کہا جاتا ہے۔ یہ خوراک شوگر میں کھانی نقصان دہ ہے۔گلوکوز چونکہ سب سے چھوٹا اور سادہ کاربوہائڈرٹ ہے لہذا یہ کھائے جانے کے بعد فورا ہضم ہو کر خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کا گلا ئیسیمک انڈیکس ۱۰۰ ہے۔ کچھ اور کاربوہائڈریٹ بڑےاور پیچیدہ شکل میں ہوتے ہیں۔ جسم کو انہیں توڑ کر گلوکوز میں تبدیل کرنے میں وقت لگتا ہے لہذا یہ دیر سے ہضم ہوتے ہیں اور خون میں شوگر ایک دم سے نہیں بڑھاتے ہیں۔ اس سے جسم کو وقت مل جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو زیادہ شوگر کو سنبھالنے کے لئے تیار کر لیتا ہے۔ اسی لئے ایسے کاروہہائڈرٹ شوگر کے مرض میں کھانے مفید ہوتے ہیں۔ان میں بغیر چھنا ہو ا گندم کاآٹا، جو، بیسن ، پھل، سبزیاں وغیرہ آتے ہیں۔ انہیں کم گلائیسیمک انڈیکس والی خوراک کہا جاتا ہے ایسے کھانوں کا گلائیسیمک انڈیکس  88 سے کم ہوتا ہے۔ جب کھانا خون میں شامل ہوجاتا ہے تو خون اسے کر لبلبے کی طرف جاتا ہے۔ گلوکوز کی ہر لمحے پیمائیش کرتا رہتاہےاور خون میں جتنا گلوکوز یا شوگر ہو اس کے مطابق ایک ہارمون جسے انسولین کہتے ہیں خون میں نکالتا ہے۔جب کھانے کے بعد گلوکوز سے لبریز خون لبلبے میں آتا ہے تو لبلبہ زیادہ انسولین خون میں ڈال دیتا ہے۔ ہارمون جسم کو ہدایات دینے والے مادے ہوتے ہیں۔ جسم میں کئی طرح کے ہارمون ہوتے ہیں۔ مثلا کوئی تو ایسا کہ اس کے زیرِ اثر بچوں کا قد بڑھتا ہے۔ ہارمون جسم کو کہتا ہے کہ قد بڑھاو اسی طرح انسولین بھی ایک ہارمون ہے جس کا کا کام ہے جسم کو ہدایت دینا کہ کہ کفایت شعاری کرو اور کھانے کے اجزا ٫ کو سنبھا ل کے رکھو۔ انسولین کی ہدایات کی وجہ سے جسم خوراک سے حاصل ہونے والے گلوکوز، جسےاب ہم خون کی شوگر کہیں گے، کو جسم کے خلیات میں ڈال دیتا ہے، ن اصرف شوگرکو بلکہ خورا ک سے حاصل ہونے والی پروٹین اور چکنائی کو بھی ۔ جب خون ،خوراک اور انسولین کو کر جگر میں پہنچتا ہے تو جگر انسولین کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کچھ شوگرکو اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے ۔ جب جسم خون میں باقی بچی ہوئی شوگرکو جلا کر اس سے توانائی حاصل کرلیتا ہے تو پھر خون میں شوگرکی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ لبلبہ ،جو ہر وقت خون میں گلوکوز یا شوگر کو ناپتا رہتا ہے، جب یہ دیکھتا ہے کہ اب خون کی شوگر کم ہو چکی انسولین بنانا بھی کم کردیتا ہے۔ جب خون میں شوگر بہت کم ہوجاتی تو لبلبہ ایک اور ہارمون خون میں نکالتا ہے جسے گلوکاگون کہتے ہیں۔ گلوکاگون جگر میں جاکر اسے ہدایت دیتا ہے کہ محفوظ کی ہوئی شوگرکو واپس خون میں نکالو ۔ لہذ اجگر ایسا کرتا ہے اور خون میں شوگرکی سطح گرنے نہیں پاتی۔ ذیابیطس ،جسے اب پاکستان میں زیادہ تر لوگ شوگر کہتے ہیں، ایسی بیماری ہے جس میں یا تولبلبہ کام کرنا بند کردیتا ہے لہذاجسم میں انسولین کی کمی ہوجاتی ہے اور یا پھر انسولین کی کمی تو نہیں ہوتی لبلبہ بےچارہ کام بھی پورا کررہا ہوتا ہےمگر جسم انسولین کی ہدایت پر عمل کرنا کم کردیتا ہے۔ لہذا انسولین جو کام کروانا چاہتی ہے وہ کام جسم صحیح طور پر نہیں کر کےنہیں دیتا۔ چنانچہ جب انسولین کہتی ہے کہ شو گرکو خلیوں میں ڈالو یا اسے جگر میں محفوظ کرو تو جسم اس کی بات نہیں مانتا۔ اگر شوگر خلیوں میں نہیں جائے تو تو پھر خون میں رہے تو۔ لہذا خون میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے تو۔ جسے عرفِ عام میں ہائی شوگر کہتے ہیں۔لیکن اگر آپ نے اوپر غو رکیا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسولین ناصرف شوگر بلکہ پروٹین جس سے جسم کے رگ پٹھےبنتے ہیں ،اور چکنائی، جوجسم میں چربی کی شکل میں جمع ہوتی ہے، کو بھی محفوظ کرواتی ہے۔ لہذا اگر انسولین کی کمی ہو اور شوگر کے ساتھ ساتھ پروٹین اور چکنائی بھی صحیح طور پرمحفوظ نہیں ہو پائیں توانسان دبلا ہوجائے گا اور اس کا وزن کم ہوجائے گا۔ لیکن پروٹین اورچکنائی پربُرا اثر تب پڑتا ہے جب انسولین بہت کم مقدار میں لبلبے سےنکلے۔ اس صورت میں جب کہ انسولین پوری مقدار میں نکل ر ہو مگرجسم انسولین کی بات مان رہا ہو تو ا سِ کا زیادہ اثر شوگرپرتو پڑتا ہے مگر پروٹین اور چکنائی پر نہیں۔ لہذا ایسے مرضوںں کا وزن کم نہیں ہوتا۔

مرضیات


مرضیات  کا مطلب ہے بیماری کو جاننا۔ سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شوگر ہے کیا چیز اور جسم میں کیا ہوتا ہے جب شوگر لاحق ہو جاتی ہے۔
شوگر ہے کیا؟

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہےکہ شوگر کا مطلب ہےانسولین کی کمی یا جسم کا ا سکی ہدایات کو نہ ماننا۔ اگر انسولین کی کمی ہو تو اسے ٹائپ ون ذیابیطس یا شوگر کی پہلی قسم کہا جاتا ہے۔ اگر انسولین کی کمی نہ ہو بلکہ جسم اس کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہا ہو تو اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس یا شوگرکی دوسری قسم کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں قسمیں بالکل الگ الگ علامات اور علاج رکھتی ہیں لہذا یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ مریض کو کس قسم کی ذیابیطس ہے۔ذیابیطس کی پہلی قسم یعنی انسولین کی کمی والی شوگرمیں لبلبہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور یہ بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ عام طور پر بچے یا پھر لڑکپن کے زمانے میں لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں لبلبہ انسولین نہیں بناتا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارا مدافعتی نظام ،جو کہ جراثیموں اور بخار وغیرہ سے لڑنے کے لئے ہوتا ہے، لبلبے کو دشمن سمجھ کر اس پر حملہ کر دیتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ مدافعتی نظام کیوں اپنے جسم کو دشمن سمجھنے کی غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ ذیابیطس کی بہت شدید قسم ہے۔ ایسے بچے یا نوجوان جنہیں یہ ذیابیطس ہوبہت کمزور ہوتے ہیں اور اگر ان کا علاج بہت جلد شروع نہ کیا جائے تو پھروہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ذیابیطس کی دوسری قسم یعنی جسم کا انسولین کی ہدایات کا نہ ماننا۔ یہ سب سے عام قسم ہے۔ یہی وہ ذیابیطس ہےجسے عرف عام میں شوگر کہا جاتا ہے۔ یہ اتنی عام ہے کہ پاکستان میں ہر دس لوگوں میں سے ایک کو یہ ہوتی ہے۔ اس ذیابیطس میں لبلبہ زیادہ سے زیادہ انسولین نکالتا ہے۔ مگر جسم اپنا پورا زور لگاتا ہے کہ جسم اس کا کہنا نہ مانے۔ لہذا انسولین کا پوراکہنا نہیں مانتا ۔ لہذا خون میں شوگرکی مقدار زیادہ رہتی ہے۔  پھربہت سالوں کے بعد ایک وقت ایسا آتا  ہےجب
اضافی کام کرنے کے  سبب لبلبہ اپنا نقصان کرلیتا ہے اور کام کرنا بندکردیتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسم کیوں انسولین کی بات نہیں مانتا۔ اس کی وجہ عام طور پر موٹاپا ہوتا ہے۔موٹے لوگوں کا جسم کئی چیزوں کے خلاف بغاوت کردیتا ہے۔ مثلا بلڈ پریشر یعنی خون کے دباو رکھنے والا نظام کا کہنا نہیں مانتا لہذا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ، ایک نارمل جسم چربی کوجگرمیں ڈالتا ہے مگر پھر اسے جگر سےنکال بھی دیتا ہے مگر موٹا جسم اس بات کو بھی نہیں مانتا اورچربی کو جگر میں جمع کرتا ر ہتاہے لہذا جگر چربی کی زیادتی کی وجہ سے خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے نان الکحلک سٹیٹو ہیپاٹائیٹس کہا جاتا ہے ۔موٹی خواتین  کا جسم بیضہ دانیوں کو ہر وقت کچھ اضافی کاموں میں لگائے رکھتا ہے جس کے نتیجے میں بیضہ دانیوں میں بلبلے سے بن جاتے ہیں اور وہ ایسے ہارمون نکالتی ہیں کہ ا ن کی وجہ سے عورتوں کے چہرے پر اضافی بال اگ آتے ہیں اور کبھی کبھی انکو ماں بننے میں دشواری بھی پیش آتی ہے۔ اس کیفیت کو پولی سسٹک اووریزکہا جاتا ہے اور یہ بھی بہت عام مرض ہے۔ اسی وجہ سے دوسری قسم کی ذیابیطس کے مریض عام طور پر موٹے ہو تےہیں اور ان کو بلڈ پریشر بھی ہوتا ہے۔ پھر اکثرموٹے لوگوں کے جگر میں چربی بھی اکٹھی ہوئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات جگر کا مرض بھی ہوا ہوتا ہے اوراکثراُن کا کولیسٹرول بھی زیادہ ہوا ہوتا ہے کولیسٹرول ایک طرح کی چکنائی ہوتی ہے۔اور کچھ لڑکیوں کو پولی سسٹک اووریزکے ساتھ ذیابیطس بھی ہوئی ہوتی ہے۔ مگر عام طور ایسی لڑکیوں کی یہ ذیابیطس ہلکی سی ہوتی ہے۔ اب یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ اگر دوسری قسم کی شوگر کے مریض جو کہ پاکستان میں کروڑوں میں ہیں اپنا وزن کم کرلیں تو ا ن کی شوگر کو بہت حد تک قابومیں کیا جاسکتا ہے۔ موٹاپے کے ساتھ یہ تمام امراض اگر ہوں تو اس کو میٹابوہلک یا ایکس سنڈروم کہا جاتا ہے۔
اگر ذیابیطس ہوئی ہو تو پتا کیسے لگتا ہے؟

بچوں یا نوجوانوں میں تو یہ بہت آسان ہوتا ہے۔ ان میں ذیابیطس کی پہلی قسم ہوتی ہے جس میں ان کو پیشاب باربار آتا ہے، پیاس بہت لگتی ہے اور وزن تیزی سے گرتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں میں جنہیں دوسری قسم کی ذیابیطس ہوتی ہے اس کی کئی سال تک کوئی علات  نہیں ہوتی۔ مگرجب اُن میں ذیابیطس کی پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں تو ان پیچیدگیوں کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن کی وجہ سے شوگر کا پتا چلتا ہے۔ لہذا ہر 35 سال سے زائد عمر کے انسان کو سال میں دو دفعہ خالی پیٹ خون کی شوگر کا ٹیسٹ کروانا چاہئے تاکہ اگر چھپی ہوئی شوگر ہو تو اس کا علاج شروع ہوسکے اور اس کی پیچیدگیوں سے بچا جائے۔

ذیابیطس کی تشخیص

اس کے لئے خون میں شوگر یعنی گلوکوز کوناپا جاتا ہے۔انسان کو آٹھ گھنٹے خالی پیٹ رہ کر یہ ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ اگرخالی پیٹ خون میں شوگر126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ہو یا کھانا کھانے کے دو گھنٹوں بعد یا دن میں کبھی بھی 200 سے زیادہ ہو تو ذیابیطس کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ نارمل خالی پیٹ انسان میں خون میں شوگر 100سے نیچے ہوتی ہے۔ ایک اور بہت ا چھا ٹیسٹ ہوتا ہے ہیموگلوبین ایچ ون سی۔ یہ تقریبا تین ماہ تک خون میں اوسطاً رہنے والی شوگر کی مقدار کا پتا دیتا ہے۔اگر یہ 6.5  ہو یا اس سے زیادہ ہو تو بھی ذیابیطس کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔ اگر خالی پیٹ خون میں شوگر  100 سے زیادہ ہو مگر 126 سے کم ہو یا دن میں کبھی بھی 140 سے زیادہ ہو مگر 200 سے کم ہوتو ایسی صورت میں ایک ٹیسٹ کروایا جاتا ہے جسے گلوکوز ٹولرنس ٹیسٹ کہتےہیں۔ اس میں خالی پیٹ انسان کو 75 گرام گلوکوز کھلا کر وقفے وقفے سے خون میں شوگر ٹیسٹ کی جاتی ہے۔ اگر اس ٹیسٹ میں خون میں شوگر 200 یا زیادہ نکل آئے تو ذیابیطس کی تشخیص کردی جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں شوگرنہ تو نارمل ہوتی ہے اور نہ اتنی زیادہ کہ ذیابیطس تشخیص کی جا سکے۔  اس کو ذیابیطس کی ابتدا سمجھنی چاہئے اور ایسے لوگوں کو خوراک اور ورزش سے اپنا وزن کم کرنا چاہئے۔
نوٹ : ملی گرام فی ڈیسی لیٹر شوگر کو اگر 18 سے تقسیم کردیں تو ملی مول فی لیٹر اور ملی مول فی لیٹر کو 18سے  ضرب دیں تو ملی گرام کا پتہ چلے گا۔
« Last Edit: April 16, 2014, 04:52:10 PM by Administrator »
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
اگر خون میں گلوکوز جو کہ ایک طرح کی چینی ہے بڑھ جائے تو نقصان کیا ہے؟
جب خون میں شوگربڑھ جاتی ہے تو پھر وہ گردوں کے راستے پیشاب میں نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ عام طور پر ایسا 180 شوگرکے درجے پر ہوتا ہے۔اگر چاٹ بناتے ہوئے پھلوں پر چینی ڈال دیں تو وہ پانی کو پھلوں میں سے باہر کھینچ لیتی ہے۔  اسی طرح اگر پیشاب میں شوگرہو تو وہ جسم کا پانی باہر کھینچ لیتی ہے۔ چنانچہ جب پیشاب میں جسم کا پانی مل جائے تو پیشاب کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اسی وجہ سے جب خون میں شوگربڑھی ہوئی ہو تو پیشاب زیادہ آتا ہے۔ اب اگر جسم کا پانی پیشاب کے رستے باہر نکل گیا ہو تو جسم میں پانی کی کمی ہوجائے تو۔ لہذا جسم ہمیں اکسائے گا کہ پانی پئو تاکہ پانی کی کمی پوری کی جاسکے۔ اسی لئے ایسی حالت میں پیاس زیادہ لگتی ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے ا کثربڑی عمر کے لوگوں میں خون میں بڑھی ہوئی شوگرکی سرے سے کوئی علات  نہیں ہوتی۔
شوگر سے پیدا ہونے والے مسائل۔

اب آپ کو سمجھانے کے لئے اور طب کی مشکل اصطلاحات کو استعمال کئےبغیر آسان الفاظ میں شوگر کی کچھ پیچیدگیوں کا ذکر ہوگا۔ ایسا سمجھئے کہ شوگر جاکر خون کی چھوٹی اور بڑی نالیوں میں جم جاتی ہے اور انہیں بند یا تنگ کردیتی ہے۔ جب خون کی نالیاں تنگ پڑ جائیں تو پھر وہ اعضا کو پورا خون فراہم نہیں کر پاتیں اور کچھ اعضا خون کی کمی برداشت نہیں کرپاتے اور بیمار ہوجاتے ہیں۔ جن اعضا کی چھوٹی خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں ان میں آنکھیں، گردے ، پائوں اور اعصاب شامل ہیں۔

آنکھوں کے مسائل ۔
آنکھوں کے پیچھے جو روشنی کو محسوسس کرنے والا پردہ ہوتا ہے اسے ریٹینا کہتے ہیں یہ شوگر سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ خون کی نالیاں جب تنگ پڑ جائیں تو یہ جسم سے فریاد کرتا ہے کہ مجھے خون فراہم کرو۔ نتیجتاً جسم اس کی خون کی فراہمی بحال کرنے کے لئے اس میں نئی خون کی نالیاں بنا دیتا ہے۔ خون کی یہ نئی نالیاں کچی ہوتی ہیں اور کبھی پھٹ جاتی ہیں۔ جب پھٹ جائیں تو آنکھ میں  خون بھر جاتا ہے اور دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ ریٹینا خون کی فراہمی کی کمی سے مر بھی سکتا ہے اور جب ریٹینا نہ رہے تو ظاہر ہے روشنی کومحسوسس نہیں کیا جاسکتا لہذا بینائی چلی جاتی ہے۔ اس کا علاج شوگر کو قابو میں رکھ کر اور لیزر کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔ لیزر سے بیمار ریٹینا کہیں کہیں ایسےجلا دیا جاتا ہے کہ بینائی پر اثر نہ پڑے۔ آنکھوں میں شوگر کی وجہ سے موتیا بھی اتر آتا ہے۔
گردوں کے مسائل۔
گردوں میں خون کی نالیاں اگر متاثر ہوں تو گردے کمزور ہوجاتے ہیں۔ گردوں میں ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ خون چھانتے رہتے ہیں۔ جو ناکارہ اور زہریلے مادے چھن کر خون سےنکلتے  ہیں ان کو پیشاب بنا کر گردے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔ خون کے کچھ کارآمد مادے بھی چھن کر گردوں میں آتے ہیں جنہیں وہ واپس خون میں ڈال دیتے ہیں ۔ لیکن جب گردے کمزور ہوجاتے ہیں تو پھر وہ خون کو چھاننا کم کردیتے ہیں اور خون کے کارآمد مادوں ،جیسے پروٹین ،کو واپس جذب کر کے خون میں نہیں ڈال سکتے لہذا پیشاب میں پروٹین کا اخراج ہونے لگ جاتا ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ گردے بالکل ناکارہ ہو جاتے ہیں اور مریض کو ڈائیلیسس پر ڈالنا ضروری ہوجاتا ہے۔اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر 130/80 سے نیچے ہو اور شوگر قابو میں ہو۔ دوائیوں کی ایک خاص قسم جو اینجیوٹینسن ہارمون کوروک کر بلڈ پریشر کم کر تی ہے اس میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔

اعصاب کے مسائل۔
اعصاب کے اندر خون کی چھوٹی نالیاں جب بند ہوجاتی ہیں تو اعصاب مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے جسم کو محسوسس اعصاب کی وجہ سے کرتے ہیں اور اعصاب جسم کو حرکت دیتے ہیں۔ عام طور پر پہلے پیروں کے اعصاب متاثر ہوتے ہیں اور پھر ہاتھوں کے۔ جس جگہ کے بھی اعصاب متاثر ہوں وہ جگہ سُن رہتی ہے یا اس میں جلن ہوتی رہتی ہے۔ کچھ اعصاب معدے اور آنتوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔ اگر یہ متاثر ہو جائیں تو بدہضمی رہتی ہے، ڈکار آتے ہیں اور قبض رہنے لگ جاتی ہے۔ مردوں میں اعصاب کی کمزوری سے جنسی مسائل جیسے ایستادگی کا نہ ہونا ذیابیطس میں ایک بہت عام مسئلہ ہے۔ اعصاب کی بیماری کا علاج شوگر کو قابو میں رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اگرپیروں یا ٹانگوں میں جلن بہت زیادہ ہو تو ایک دوا ایمیٹریپٹائیلین اس میں کارگر ثابت ہوتی ہے۔ ذیابیطس میں بعض اوقات چند لوگوں کو ایک اعصابی مرض ہوتا ہے جس میں ایک دن اچانک ایک ران میں درد شروع ہوجاتا ہےاور وہ ٹانگ کمزور حسوسس ہوتی ہے۔ کچھ دن بعد وہ ران  دوسری ران کے مقابلے میں پتلی نظر آتی ہے۔ ایساپٹھوں کے ضائع ہوجانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اکثرایسے مریضوں کو چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور پیشاب اور پاخانے کے مسائل، جیسے پیشاب کی دھار کا رکنا یا کمزور ہونا، قبض یا دست لگ جانا، پیش آسکتے ہیں۔اکثر اوقات کچھ عرصے بعد ران کے ساتھ ساتھ پوری ٹانگ میں یہ درد پھیل جاتا ہے اور دوسری ٹانگ بھی اس مرض کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کو ڈایابیٹک اے مائیوٹروفی کہتے ہیں۔ اس کا علاج شوگر پر قابو اور درد کو کم کرنے وا کچھ خاص ادویات ہیں جیسے ایمیٹریپٹائیلین۔ عام دردوائیں اس میں کام نہیں کرتی۔
َ
پاوں کے مسائل۔
اعصاب جب متاثر ہوتے ہیں تو پیروں میں جلن حسوسس ہوتی ہے خاص طور پر رات کے وقت اور آہستہ آہستہ پاوں  میں جو محسوسس کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے وہ اعصاب کے ناکارہ ہو جانے کی وجہ سے جاتی رہتی ہے اور پائوں سُن رہتے ہیں اور اگر ان میں چوٹ لگ جائے تو محسوسس نہیں ہوتا ۔ لہذا مریض اپنے پاوں کا خیال نہیں رکھتا اور جوتا کاٹنے کی وجہ سے ، ٹھوکر لگنے سے یا پیروں کی انگلیوں کے درمیان پھپھوندی لگ جانے کی وجہ سےزخم ہو جاتے ہیں جن پر جراثیم حملہ کردیتے ہیں اور انفیکشن ہوجاتی ہے۔ ذیابیطس کا مریض پاوں کی انفیکشن کو آسانی سے ٹھیک نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہےلہذا جراثیم آسانی سے حملہ آور ہوجاتے ہیں اور جسم اپنے مدافعتی نظام کی کمزوری کی وجہ سے ان جراثیموں کو پوری طرح مار نہیں سکتا۔ پھر خون میں گلوکوزکی زیادتی جراثیموں کوپلنے کے لئیے زیادہ خوراک مہیا کر کے زخم خطرناک حد تک جراثیموں کے حملے دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے پاوں جراثیموں کے حملے کی زد میں آجاتے ہیں اور خراب ہو کر پھیلنا شروع ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کی آپریشن کر کے صفائی کرنی پڑتی ہے اور پیپ نکالنی پڑتی ہے اوربعض اوقات توزخم اتنا خراب  ہو جاتا ہے کہ پاوں بالکل گل سڑ جاتا ہے اور جسم میں سے زہر نکل کر پھیلنے لگتا ہے ۔ ایسی صورت میں پاوں کاٹنا پڑجاتاہے۔
کچھ اعضا ایسے ہیں جن کی خون کی بڑی نالیاں تنگ پڑجاتی ہیں۔
دماغ کے مسائل۔
اگر دماغ میں خون کی نالی بند ہو تو فالج ہو سکتا ہے جسے سٹروک کہتے ہیں۔ اس کاعلاج بھی شوگر کو قابو میں رکھ کر اور بلڈ پریشراور کولیسٹرول کو کم رکھ کراور ایسپرین ۱۰۰ ملی گرام کی دوا روز لے کر کیا جاتا ہے۔ کچھ شوگر کے مریضوں کی دل کی دھڑکن بےقاعدہ ہو جاتی ہے ۔ اس مرض کو ایٹریل فیبریلیشن کہا جاتا ہے ۔ اس بیماری میں دل کے اندر کچھ خون جم جاتا ہے ۔ دل سارے جسم میں خون کو گردش کرواتا ہے۔ اگر دل کے اندر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے ہوں تو وہ دل سے نکل کرخون کی دھار میں شامل ہو کر دماغ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جا کر خون کی نالیوں میں پھنس کر انہیں بند کر دیتے ہیں۔ اس سے انسان کو فالج ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ایک دوا جسے وارفرین کہتے ہیں ایٹریل فیبریلیشن میں دی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک اور دوا اس مقصد کے لئے پیش کی گئی ہے جس کا نام ڈیبیگیٹرین ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ ورافرین لیتے ہوئے مریضوں کا خون کا ایک ٹیسٹ اکثر مہینے میں ایک یا دو دفعہ اور بعض اوقات تو ہر تھوڑے دنوں بعد کروانا پڑتا ہے جسے آئی این آر کہتے ہیں۔ ڈیبیگیٹرین کے ساتھ اس ٹیسٹ کے کروانے کی ضرورت نہیں۔


دل کے مسائل۔
اسی طرح دل کی خون کی نالیاں جب تنگ ہو جائیں تو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے ۔عام طور پر دل کے دورے سے چھاتی میں درد ہوتا ہےمگر ذیابیطس میں تو اکثر لوگوں کو دل کے دورے کا درد نہیں حسوسس ہوتا جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمیں درد کا اعصاب کی وجہ سے پتا چلتا ہے۔ مگر جیسا کہ آپ نے اوپر دیکھا کہ شوگر کے مرض میں اعصاب تباہ ہوجاتے ہیں لہذادل میں اٹھنے وا درد کا پتہ نہیں چلتا۔ درد کا ہونا فائدہ مند ہے کیونکہ انسان چھاتی کے دردسے گھبرا کر ہسپتال جاتا ہے جہاں اس کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ مگر ذیابیطس کےاکثر مریضوں کو دل کے دورےمیں چھاتی میں درد کی بجائے چند ہلکی پھلکی شکایات ہوتی ہیں جیسے چھاتی میں گھٹن، یا سانس کا چڑھنا، گردن یا جبڑے کا بھاری محسوسس ہونا، یا بعض اوقات صرف طبیعت میں بےچینی محسوسس ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہو میں خرابی کی کوئی اوروجہ سمجھ نہ آ رہی ہو تو فورا ہسپتال جائیں اور ای سی جی کروائیں۔ ایک خون کا ٹیسٹ ہوتا ہے ٹروپونین وہ بھی ضرور کروائیں۔ یاد رکھیں کہ دل کا دورہ فوری جان سکتا ہے اور ۳۰ فیصد لوگ ہسپتال پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتے ہیں۔ دل کے مرض کا علاج بھی ایسپرین بلڈ پریشر کنٹرول اور کولیسٹرول کو کم کر کے کیا جاتا ہے نیزشوگر کو قابومیں رکھنا بھی ضروری ہے۔ بعض اوقات دل کا بائی پاس آپریشن کرنا پڑتا ہے۔
بعض اوقات ٹانگوں کی خون کی نالیاں تنگ پڑ جاتی ہیں ۔ اگر ایسا ہو تو مریض جب بھی چلتا ہے تو اسے ٹانگوں میں درد یا اینٹھن ہونے لگتی ہے جو کہ رک جانے سے تقریباً فوراً ٹھیک ہوجاتی ہے۔ اسے کلاڈیکیشن کہاجاتا ہے۔اس کا علاج بھی شوگر پر قابو، ایسپرین اور بلڈ پریشراورکولیسٹرول کو نیچے رکھنا ہے۔ بعض اوقات آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی خون کی بڑی نالیوں کو بہت نقصان دیتی ہے۔ لہذا ذیابیطس کے مریض کو فورا تمباکو نوشی چھوڑدینی چاہیئے کیونکہ تمباکو نوشی اور شوگر مل کر خون کی بڑی نالیوں کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہیں ۔ ایک اور بات ضرور یاد رکھیں کہ شوگر میں ہونے والی فالج ، دل اور گردے کی بیماری کے علاج میں شوگر کو قابو رکھنا توضروری ہے مگر اُس سے کہیں زیادہ ضروری بلڈ پریشر کو کم رکھنا ہے۔ لہذا بلڈ پریشر
سے غفلت نہ برتیں۔

دانتوں کی بیماری ۔
اکثر شوگر کے لوگوں کے دا بہت خراب ہوتے ہیں۔ لہذا دانتوں کو صاف رکھیں اور ڈینٹیسٹ کے پاس سال میں دو دفعہ انتوں کی صفائی کروانے جانا چاہئے
خیال رہے کہ ڈینٹیسٹ نئے غیر استعمال شدہ اوزار آپ کے اوپر استعمال کرے ورنہ آپ کو ہیپاٹائٹس بی یا سی یا ایڈز کا مرض لگ سکتا ہے۔


حمل اور ذیابیطس۔
کچھ عورتوں کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے۔ اسے گیسٹیشنل زیابیطس کہتے ہیں۔ بچہ پیدا ہونے کے بعد یہ شوگر اکثر و بیشتر ٹھیک ہوجاتی ہے مگر ایسی عورتوں کوبعد میں شوگر ہونے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ حمل میں ذیابیطس بچے کے لئے بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے بچے کی نشونما رک سکتی ہے، بچے کے ارد گرد بہت زیادہ پانی اکٹھا ہو سکتا ہے جس سے ماں کو تکلیف ہوتی ہے اور بعض اوقات زچگی وقت سے پہلے شروع ہوجاتی ہے۔ بچے کے جسم کے بننے میں نقائص ہو سکتے ہیں جیسے دل، ہڈیوں اور بڑی آنت کا ادھورا بننا۔ ایسے بچے بہت موٹے بھی ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پیدائیش میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا ان سب باتوں سے بچنے کے لئے ماں کی شوگرحمل میں کئی دفعہ ٹیسٹ کروانی چاہئے تاکہ اگر شوگر نکلے تو فوراً اُس کا علاج شروع کیا جاسکے۔شوگر کی مریض ماؤں کو لازماً ایک ماہر امراض نسواں کے پاس زچہ بچہ کلینک میں لگاتار جاکر اپنا معائینہ کرواتے رہنا چاہئے۔ اگر حمل میں شوگر ہو جائے یا حاملہ عورت کو پہلے سے شوگر ہو تو اسکی شوگر کو ں کو انسولین کے انجکشن لگانے پڑتے ہیں اور ان کی شوگر عام ذیابیطس کے مرضوںں سے
بہت سختی سےقاوہ میں رکھا جاتا ہے۔ ایسی ماوں کو انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں اور شوگر ذیابیطس کے عام مریضون سے کافی کم درجے پر رکھی جاتی ہے۔ ان کی خالی پیٹ خون کی شوگر 100 سے نیچے ہو اور کھانے دو گھنٹے بعد کی شوگر 120 سے نیچے ہونی چاہئے۔
« Last Edit: April 16, 2014, 05:09:25 PM by Administrator »
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
شوگر کا کم ہونا۔
بعض اوقات ذیابیطس کا مریض دوا زیادہ یا کھانا کم کھائے تو خون میں شوگ بہت کم ہو جاتی ہے جسے لوگ شوگرڈاون ہونا یا لو ہونا کہتے ہیں۔ طب کی زبان میں اس کو ہائپوگلائیسیمیا یا پھر صرف ہائپو کہاجاتا ہے۔ خون میں شوگرجب 70 سے نیچے گر جاتی ہے تو تب شوگر کم ہونے کی علامات شروع ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا جسم ہر وقت شوگرکو جلا کر اس سے توانائی حاصل کرتا رہتا ہے۔ جب شوگرکم ہو جائے تو تمام جسم اور خاص طور پر دماغ اپنا کام کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہ ایک نہایت خطرناک چیز ہے اور اس سےموت بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے ہر حال میں بچنا چاہئے۔ شوگر کم ہونے کے دوران مریض کو پریشانی اور خوف حسوسس ہو تا ہے۔ بہت کمزوری محسوسس ہوتی ہے اور ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی حسوسس ہوتی ہے۔ ٹھنڈے پسینے آتے ہیں اور دل تیز دھڑکتا ہوا محسوسس ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو مریض کو فوراً کوئی میٹھی چیز کھانی چاہئے جیسے میٹھی گولیاں، مشروبات یا چینی وغیرہ اور اپنی شوگر فوراً چیک کرنی چاہئے۔ میٹھی چیز کھا نےکے بعد کچھ اور بھی کھانا چاہئے جیسے کہ تھوڑی روٹی یا چاول تاکہ شوگر دوبارہ نیچے نہ آجائے۔اگر اس وقت مریض کو کوئی میٹھی چیزنہ دی جائے تو مریض بہکی بہکی باتیں کرنا شروع ہوجاتا ہے اور پھر آخر میں بیہوش ہوجاتا ہے۔ اگر پھر بھی اسکا علاج نہ ہو، جو کہ اسے تیزی کے ساتھ ہسپتال میں جانا ہے تاکہ اُسے گلوکوز کی ڈرپ لگ سکے، تو مریض مر سکتا ہے یا اُس کے دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو گھر سے باہر جاتے وقت اپنے ساتھ میٹھی گولیاں ضرور رکھنی چاہ شوگر کے وہ مریض جن کی شوگر اکثر کم ہوجاتی ہےا پنےگھرمیں گلوکوز کا پاؤڈر یا 15 گرام گلوکوز کی گولیاں رکھیں اور اپنے گھر والوں کو بتائیں کہ اگر اُن کی شوگر کم ہو اور وہ بہکی بہکی باتیں کر رہے ہوں تو انہیں فورا گلوکوزدیا جائے یا کوئی بھی میٹھی چیز اور اگر وہ بےہوش ہوں تو ایمبولینس کو فوراً بلایا جائے یا انہیں کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا جائے۔ بہتر تو یہی ہے کے بےہوش مریض کے منہ میں کوئی چیز نہ ڈالی جائے کیوں کہ وہ میٹھا یا چینی مریض کی سانس کی نالی میں چلی جائے تو جس سے بےہوش مریض کا، جو کھانسی کر کے اپنے گلے کو صاف نہیں کرسکتا، دم گھٹ سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں بعض اوقات ٹریفک کی وجہ سے یا ایمبولینس آنے کی وجہ سے بےہوش مریض ہسپتال نہیں پہنچ پاتا۔ اگر مریض کی شوگر اکثرکم ہو جاتی ہو اور بے ہوشی کا خطرہ ہو تو ایسے مرضوںں کو اپنے گھر میں گلوکاگون ایک ملی گرام کا انجکشن بھی رکھنا چاہئے۔ یہ انجکشن ایسے لگتا ہے جیسے انسولین کا یعنی کھال کے نیچے۔ گلوکاگون سے شوگر کچھ دیر کے لئے اوپر آجاتی ہے مگر اس دوران اگر مریض کچھ نہ کھائے تو پھر وا پس نیچے چلی جاتی ہے۔ گلوکاگون کا فائدہ یہ ہے کہ یہ بےہوش مریض کو بھی لگایا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات گلوکاگون سے بھی مریض بے ہو شی سے نہیں جاگتا۔ میرے خیال میں اگر مریض بےہوش ہو اور گلوکاگون کا اثر بھی نا ہوا ہو اور 30 منٹ سے زیادہ گزر گئے ہوں او رجلد ہسپتا ل پہنچنے کی صورت نہ بن رہی ہو تو مجبوری کے عالم میں گلوکوز یا پھر چینی ،مر یضکو بائیں کروٹ لٹا کر ا سِ طرح کہ اُس کا بائیاں رخسارر زمین یا بستر کے ساتھ لگ رہا ہو، ا س کی زبا ن کے نیچے چمچےسے ڈال دیں۔ یاد رکھیں کہ ہر بے ہوش انسان کو اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق بائیں کروٹ لٹانا چاہئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مریض اگر بے ہوشی کی حالت میں الٹی کرے تو وہ الٹی سانس کی نالی میں نہیں جاتی۔ ایک سے دوچمچے بہت ہوتے ہیں کیوں کہ اس سے زیادہ مریض کی سانس کی نا میں چلاجائے گا ۔ بہت سے لوگ جنہیں شوگر کا مرض کئی سالوں سے ہو ان کے اعصاب شوگر سے اتنے خراب ہو چکے ہوتے ہیں کہ انہیں شوگر کے کم ہونے کا بھی پتا نہیں چلتا اورشوگر کم ہونے سے وہ بےہوش تو ہو جاتے مگر چونکہ انہیں شوگر کم ہونے کی کوئی علامت  محسوسس نہیں ہوتی لہذا وہ میٹھا کھا کر بےہوشی سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے۔ ایسے مریضوں کو اپنی شوگر روزانہ چیک کرنی چاہئے اور ان کے ڈاکٹر ایسی حالت میں ان کی شوگرکو بہت قابو میں رکھنے کو ترجیح نہیں دیتے۔
شوگر کا بڑھ جانا۔
اگر ذیابیطس کی دوسری قسم کامریض دوا نہ لے تو اس کی شوگربہت بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے اس سے پیشاب بہت آتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس سے مریض بہت کمزوری محسوسس کرتا ہے اور اگر علاج نہ ہو تو بےہوش بھی ہوسکتا ہے۔ اسے نون کیٹوٹک کوما کہا جاتا ہے۔ اسکا علاج ہے مریض کو پانی دینا اور شوگر کو دوا کے ذریعے نیچے لانا ۔ اگر مریض بےہوش ہے یا اس کی شوگر 500 سے اوپر ہو تو اسے ہسپتال جانا چاہئے۔
پہلی قسم کی ذیابیطس ، جو بچوں اور نوجوانوں کو ہوتی ہے، اس کا علاج صرف انسولین ہے۔ ہر بیماری جیسے نزلہ زکام یادست وغیرہ میں جسم کو انسولین
تھوڑی یا زیادہ چاہئے ہوتی ہے۔ لہذا پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو کسی بیماری کی حالت میں اپنی شوگر باربار چیک کرنی چاہئے اور معمول سے تھوڑی زیادہ انسولین لگانی چاہئے۔ اگر وہ انسولین اپنی بیماری میں بڑھائیں یا پھر تندرستی میں انسولین بغیر کسی معقول وجہ کے کم کردیں یا بالکل نہ لگائیں تو ان کو ایک بہت خطرنا ک پیچیدگی ہو جاتی ہے جسے کیٹو ایسیڈوسس کہتے ہیں۔ اس میں خون میں شوگر بہت بڑھ جاتی ہےاور پیشاب بہت آتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی اور نمکیات خصوصا پوٹاشیم کی کی کمی ہوجاتی ہے اورجسم بہت زیادہ تیزاب بنانا شروع کردیتا ہے۔ایسا مریض کمزوری محسوسس کرتا ہے اور نیم غنودگی میں چلاجاتا ہے۔ اگر پھر بھی علاج نہ شروع ہوتو بیہوش ہوجاتا ہےاور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ ایسےمریض کو فورا ہسپتال جانا چاہئے جہاں اسے انسولین ،نمکیات اور پانی کی کئی ڈرپیں لگائی جاتی ہیں۔ کیٹو ایسیڈوسس پہلی قسم کے ذیابیطس کے مریضوں میں تو بہت عام ہے مگر یہ دوسری قسم کے مریضوں میں نہیں ہوتا یا اس وقت چند لوگوں کوہوتا ہےجب ان کی شوگر کو کئی سال ہوچکے ہوں۔
« Last Edit: April 16, 2014, 05:18:30 PM by Administrator »
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
ذیابیطس کا علاج ۔
زندگی کے انداز میں تبدیلی۔
ہر طرح کی ذیابیطس کے لئیے دن میں کم ازکم آدھا گھنٹہ ورزش کرنا جیسے کہ تیز قدموں سے چلنا بہت مفید ہوتا ہے۔ ہر طرح کی ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی خوراک میں چکنائی بہت کم کردینی چاہئے۔ سبزیوں اور پھلوں کو خوراک میں شامل کریں اور چربی کے بغیر گوشت بھی اچھا ہے۔ نیز ہر طرح کی ذیابیطس  کے مریضوں کو کم گلائیسیمک انڈیکس والی خوراک کھانی چاہئے تاکہ کھانے کے بعد شوگر ایک دم سے خون میں چلی جائے۔  گلائیسیمک انڈیکس کے بارے میں انٹرنیٹ پر موجود مزید معلومات ضرور دیکھئے ۔ بہتر تو یہی ہے کہ میٹھا جس کا گلائیسیمک انڈیکس بہت زیادہ ہوتا ہے، نہ استعمال کریں لیکن یاد رکھیں کہ چکنائی ذیابیطس کے لئیے میٹھے سے بھی زیادہ بری ہے۔ اگر میٹھا بہت پسند ہو تو پھر کبھی کھانے کے ساتھ تھوڑا میٹھا کھانے میں کچھ اتنا ہرج نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ کھانے کے ساتھ میٹھا کھانے کے دو گھنٹوں بعداپنی شوگر چیک کریں اور اگر میٹھا کھانے سے شوگربہت بڑھ جاتی ہے تو پھر مت کھائیں۔ بہت بڑھنے سے مراد کھانے کے دو گھنٹوں بعد شوگر کا 200 سے اوپر جانا ہے۔
تمباکو نوشی۔
ہر طرح کی تمباکو نوشی خاص طور پر سگرٹ پینے سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ سگرٹ ناصرف پھیپھڑے کا کینسر کرتا ہے بلکہ شوگر کے مریض کو تو لازماً دل، فالج اور ٹانگوں کا مرض بھی لگا دیتا ہے۔ قّہ بھی بری چیز ہے اور اس سے بھی بچنا چاہئے۔
پہلی قسم کی ذیابیطس ۔ 
چونکہ انسولین کی کمی سے ہوتی ہے لہذا اس کا علاج تو صرف انسولین کا انجکشن ہے۔ ایسے مرضوںں کو اپنی شوگر بار بارچیک کرتے رہنا چاہئے اور اپنی خوراک کو مدنظر رکھ کر انسولین کی مقدار کا تعین کرنا چاہئے۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریض اپنی خوراک میں کاربوہایڈررٹ یعنی چینی ،نشاستہ مٹھاس وغیرہ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اسے کاربوہائڈرٹ کاونٹنگ کہتے ہیں۔ عام طور پر 15 گرام کاربو ہائیڈریٹ کو ایک کاونٹ سمجھا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر کچھ ویب سائٹوں میں مختلف خوراک کے اندر موجود مختلف کاروہائڈرٹ مقدار بتائی گئی ہے۔ جتنے کاروہہائڈرٹ کاؤنٹ مریض نے کھانے ہوتے ہیں اسی کے حساب سے اسے انسولین کا انجکشن لگانا ہوتا ہے۔ زیادہ ترلوگوں کو ایک کاربوہائڈرٹ کاؤنٹ کے لئے ایک سے دو یونٹ انسولین چاہئے ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو تیز اثر کرنے والی انسولین ہر کھانے سے پہلے لگانی ہوتی ہے اور رات کو سوتے ہوئے یہ لمبی مدت تک اثر کرنے والی انسولین کا انجکشن لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو بیزل بولس کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اُن کی شوگر کو قابو میں لانے کا بہترین طریقہ ہے مگر ذیابیطس کی پہلی قسم کے مریضوں کا علاج اور طریقوں سے انسولین کے انجکشن لگا کربھی کیا جاسکتا ہے ۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو بہت باقاعدگی  کے ساتھ اپنے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔ چونکہ یہ لوگ کم عمر اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں لہذا اکثر یہ اپنی بیماری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور شوگر سے بہت زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہذا ان کو بار بار سمجھاتے رہنا چاہئے۔
دوسری قسم کی ذیابیطس۔
چونکہ اس کی عام وجہ موٹاپا ہوتا ہے لہذا اس کے علاج کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنا وزن کم کرے۔ اگر وزن کم ہوجائے تو اکثر شوگر یا تو ختم ہوجاتی ہےیا پھر بہت ہلکی سی باقی رہ جاتی ہے۔ بعض لوگوں کی دوسری قسم کی ذیابیطس تو صرف خوراک کے پرہیز اور باقاعدہ ورزش سے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگوں کو دوا کھانی پڑتی ہے یا انسولین کا انجکشن لگانا پڑتا ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کے علاج میں صرف انسولین کا انجکشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور صرف گولیاں بھی یا دونوں ملا کر بھی ۔ شوگر کا ٹیسٹ کرنا۔شوگر کے مریض کو روزانہ اپنی شوگر چیک کرنی چاہئے۔ پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو تو دن میں کم از کم تین  دفعہ یعنی صبح ناشتے سے پہلے، دوپہر کے کھانے سے پہلےاور رات کے کھانے سے پہلے اپنی شوگر ٹیسٹ کرنی چاہئے۔ بہت بہتر ہے کہ ایسے مرِیض رات کو سونے سے پہلے بھی اپنی شوگر ٹیسٹ کریں اور اس کے مطابق انسولین کا انجکشن لگائیں۔دوسری قسم کی ذیابیطس میں اتنا محتاط ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کے مریضوں کو بھی اپنی شوگر روزانہ ٹیسٹ کرنی چاہئے لیکن دن میں ایک دفعہ کافی ہے۔ کبھی صبح خالی پیٹ ناشتے سے پہلے اور کبھی دوپہر یا کبھی رات کے کھانے کے سے پہلے ۔ لیکن اگر اُن کی شوگر پوری طرح سے ابھی سیٹ نہ ہوئی ہو تو پھر انہیں بھی دن میں تین  سے چار دفعہ اپنی شوگر ٹیسٹ کرنی چاہئے۔ آپ کی صبح ناشتے سے پہلے خالی پیٹ شوگر 126 سے نیچے ہو تو بہت بہتر ہے۔ 140 سے اوپر ہونا قابلِ قبول نہیں اور آپ کو اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہئے۔ وہ عام طور پر آپ کی رات کی دوا بڑھا دے گا۔ اسی طرح دوپہر یا رات کےکھانے سے پہلے آپ کی شوگر 126 سے نیچے ہونی چاہئے اوراگر 140 سے اوپر آرہی ہو تو اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیے۔ اگر آپ کی دوپہر کی شوگر زیادہ آرہی ہے تو آپ کا ڈاکٹر آپ کی صبح ناشتے کے ساتھ کھانے والی دوا یا انسولین بڑھا دے گا اور اگر رات کی شوگر زیادہ ہے تو پھر وہ آپ کی دوپہر والی دوا یا انسولین بڑھا دے گا۔ آپ اپنی شوگر ایک ڈائری میں تاریخ اور وقت کے ساتھ درج کرلیا کریں۔ اس کے ساتھ یہ بھی لکھیں کہ آپ نے اس شوگر کے ٹیسٹ کرنے سے پہلے کیا کھانا کھایا تھا۔
ڈاکٹر کے پاس جانا۔
آپ کو ایک ڈاکٹر کے پاس ہر چھ مہینے بعد جانا چاہئے جو کہ آپ کا بلڈ پریشر چیک کرے گا اور آپ کی ہیموگلوبین ایچ ون سی ٹیسٹ کروائے گا۔ اسِ سے اس کو پتا چلے گا کہ تین ماہ میں آپ کی شوگر کتنی رہی ہے۔ ہیموگلوبین ایچ ون سی 7 سےکم ہو تو اچھا ہےوگرنہ 7.5  تک بھی قابل قبول ہے۔ اور ساٹھ سال سے زیادہ لوگوں میں یا وہ لوگ جن کو دل کا مرض ہو 8 تک بھی ٹھیک ہے۔ آپ کا ڈاکٹر آپ کی شوگر کی ڈائری دیکھے گا اور اس کے مطابق آ پکی انسولین یا گولیوں کی خوراک مقرر کرے گا۔ وہ آپ کا پیشاب بھی سال میں کم از کم ایک دفعہ چیک کرے گا کہ کہیں اس میں پروٹین تونہیں آ رہی ۔ پیشاب میں جو پرو ٹین چیک ہوتی ہے اسے البیومن کہا جاتا ہے۔ اور اگرپیشا ب میں البیومن نکل رہی ہے تو وہ آپ کو بلڈ پریشر کم کرنے کی مزید دوائیں دے گا تاکہ آپ کا بلڈ پریشر کم از کم 130/80 سے نیچے رہے۔ کچھ لوگ چوبیس گھنٹے کے جمع کئے ہوئے پیشاب میں البیومن ناپتے ہیں جو 30 ملی گرام سے کم ہونی چاہئے۔ یہ طریقہ پاکستان میں لوگ پسند نہیں کرتے کیونکہ پورے دن کا پیشاب برتن میں جمع کرکے لیبارٹری میں جانا پڑتا ہے۔ زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان ایک دفعہ پیشاب کرے اور اس میں البیومن اور کریٹینن کی مقدار ناپی جائے اور پھر اس کی نسبت نکا ل لی جائے۔ اس سے انسان پورے دن کا پیشاب جمع کرنے سے بچ جاتا ہے۔ البیومن کریٹینن ریشو مردوں میں 3.5 سے کم اور عورتوں میں 2.5 سے کم ہونی چاہئے۔ اگر یہ اس سے زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ آپ کو سال میں ایک دفعہ آنکھوں کے ماہر کے پاس معائنے کےلئیے بھی آپ کا معالج بھیجے گا۔ آنکھوں کا ڈاکٹر آپکی آنکھوں کے اندر ریٹینا کا معائینہ کرے گا اور اگر کوئی مسئلہ ہو گا تو اس کا علاج کرے گا۔  پھر آپ کا معالج سال میں ایک دفعہ آپ کا خالی پیٹ خون کے کولیسٹرول کا ٹیسٹ بھی کروئے گا۔ آپ کا بُرا کولیسٹرول،جسے ایل ڈی ایل کہا جاتا ہے ،اگر 130 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا 3.3 ملی مول فی لیٹر۔ سے زیادہ ہوتو وہ آپ کو ایک دوا کی قسم پر جسے سٹیٹن  کہتے ہیں شروع کروادے گا۔ کچھ لوگ تو ایل ڈی ایل کو 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹریا 2.6 ملی مول فی لیٹرسے بھی اوپر جانے پرکولیسٹرول کی دوا شروع کروا دیتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب آپ کا بلڈپریشر بڑھا ہو، یا آپ سگرٹ پیتے ہوں۔
پاؤں کا معائنہ ۔
آپ اپنے پاوں کا روزانہ خود معائنہ کیا کریں اور اگر کوئی زخم ہو تو اس کو نلکے کے پانی میں دھو کر خشک کریں اور اس پر پٹی باندھیں اور اسے ٹھوکروں سے محفوظ رکھیں۔ اگر زخم ایک ہفتے میں ٹھیک ہونا شروع نہ ہو تو جاکر کسی ڈاکٹر کو دکھائیں۔ اکثر جوتا کاٹنے سے یہ زخم ہوتے ہیں لہذا بہت اچھا اور آرام دہ جوتا پہنا کریں۔ شوگر کے مرض میں پاؤں پر اکثر گٹھے یا آبلے بن جاتے ہیں۔ اگر یہ بڑے ہوں تو اپنے پاؤں کو نیم گرم پانی میں شیمپوڈال کر تقریباً آدھا گھنٹہ بھگوئیں رکھیں اور اس کے بعد پاؤں کو جھاویں سے نرمی سے رگڑ کر گٹھا اتار لیں۔ یاد رہے کہ گٹھے اکثر ذیابیطس میں زخم میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ کچھ دوائیں جیسے سیلیسیلک ایسڈ یا یوریا والی کریم اس عمل کو اوربھی آسان بنا دیتی ہیں۔ گر پاؤں زیادہ خراب ہیں تو پھر پاؤں کی تراش خراش کرنے والے کسی ماہرکے پاس جانا چاہئے۔
شوگر کی دوائیں۔
میٹفورمن
دوسری قسم کی ذیابیطس میں عام طور پر میٹفورمن دی جاتی ہے۔  یہ ایک بہت مفید دوا ہے۔ یہ جسم کی انسو لین کی نافرمانی کو کم کرتی ہے اور وزن کو بھی کم رکھنے میں کچھ کچھ مدد دیتی ہے۔ یہ اگرگردے بہت خراب ہوں یا جگر خراب ہو تو نہیں کھانی چاہئے۔ یہ بہت محفوظ دوا ہے۔ اس سے بدہضمی کے علاوہ اور کچھ خاص مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ اتنی اچھی دوا ہے کہ اس سے شوگر کے خطرناک حد تک کم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ذیابیطس کے ماہر کوشش کرتے ہیں کہ ہر وہ انسان جسے دوسری قسم کی ذیابیطس ہو یہ دوا کھائے۔ یہ پہلی قسم کی ذیابیطس میں نہیں دینی چاہئے۔

انسولین کو نکلوانےوالی ادویات۔
یہ کئی طرح کی ہوتی ہیں اور ان کا مشکل طبی نام سلفونائل یوریا ہوتا ہے۔ یہ نام آپ کو یاد رکھنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس قسم کی مشہور
دوائیں ہیں گلپیزائڈ  گلیکیزیئڈ  گلیمیپرائیڈ 
گلائیبینکلامائیڈ جسے گلائبورائڈبھی کہا جاتا ہے۔

یہ دوائیں لبلبے سے زیادہ انسولین نکلواتی ہیں۔ان کا بھی کوئی خاص نقصان نہیں مگر، اگر ان کے کھانے کے بعد انسان کھانا نہ کھائے تو شوگر بہت کم ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ دوائیں کھانے سے
پہلے کھائی جاتی ہیں۔ ۔ان میں سے بعض دوائیں دن میں ایک دفعہ اور بعض دو دفعہ دی جاتی ہیں۔ یہ معمولی سا وزن بڑھا سکتی ہیں۔ ۔ یہ پہلی قسم کی ذیابیطس میں نہیں دینی چاہیئں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس میں کچھ سالوں بعد گولیوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور ان مریضوں کو پھر انسولین کا انجکشن شروع کروایاجاتا ہے۔
انسولین
انسولین کی دو بنیادی اقسام ہیں۔
ایک جو کہ تیزی سے اثر کرتی ہے۔ اسے ریگولر انسولین کہا جاتا ہے۔ یہ پانی کی طرح شفاف ہوتی ہے اورآدھے گھنٹے سے  45 منٹ میں اپنا اثر شروع کردیتی ہے۔اسی لئے اسے کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے لگایا جاتا ہے۔اس کا اثر صرف 6 گھنٹےتک رہتا ہے۔ ایک تیز اثر کرنے وا انسولین لیسپرو کی خوبی یہ ہے کہ اس کا انجکشن لگانے کے فوراً بعد کھانا شروع کیا جاسکتا ہے۔
دوسری قسم لمبےعرصے تک اثر کرتی ہے ۔
یہ عام طور پر دودھیا رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کا اثر 04 گھنٹے یا بعض قسموں کا تو 24 گھنٹوں تک رہتا ہے۔ سب سے مشہور اور سستی دیر تک اثر کرنے والی انسولین کا نام ہے این پی ایچ۔ یہ دن میں کم از کم دو دفعہ لگائی جاتی ہے۔ گلارجین بہت اچھی انسولین ہے جو کہ چوبیس گھنٹے تک اپنا اثر کرتی ہے۔ یہ دن میں ایک بارکبھی بھی لگائی جاسکتی ہے مگراکثر لوگ اسے رات کو لگاتے ہیں۔اکثر دونوں قسم کی انسولین ایک ہی بوتل میں ملا کر پیک کی ہوتی ہیں۔ انسان کوعام طور پر دونوں طرح کی انسولین چاہئے ہوتی ہیں لہذا پہلے سے ملائی ہوئی انسولین سے یہ سہولت ہوتی ہےکہ ایک سرنج میں خود سے دونوں ملانی نہیں پڑتیں۔ مگر نقصان یہ ہوتا ہے کہ پہلے سے ملی ہوئی انسولین میں دونوں انسولینوں کی مقدار بعض اوقات اس مریض کی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتی۔

انسولین صرف کھا ل کے نیچے انجکشن لگا کر استعمال کی جاسکتی ہے۔
انسولین کا انجکشن لگانا بہت آسان ہے اوریہ کھا ل کے نیچے بڑے آرام سے لگایا جاتا ہے۔ کھال کو نرم سی چٹکی میں پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہیں اور پھر سرنج کی سوئی اس چٹکی میں آئی ہوئی کھال میں ڈال کر انجکشن لگا دیتے ہیں۔ دھیان رہے کہ اگر کھال پتلی ہو تو سوئی نیچے گوشت میں نا چلی جائے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ انسولین کھا ل کے نیچے موجود چربی کے بجائے گوشت میں لگ جائے۔ اگر ایسا ہو تو انسو لین جسے آہستہ آہستہ چر بی سے نکل کر خون میں جانا ہوتا ہے ایکدم گوشت سے نکل کر خون میں چلی جاتی ہے جس سے اس کا اثر تھوڑی دیر رہتا ہے اور اس کے ایک دم خون میں جانے سے شوگر بہت زیادہ نیچے آسکتی ہے۔ انجکشن کی بہترین جگہ پیٹ یا رانیں ہوتی ہیں۔ بازو کا اوپر والا حصہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اگر موٹا ہو ۔
« Last Edit: April 16, 2014, 05:34:00 PM by Administrator »
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline Doctor

  • Doctors
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
کم استعمال ہونے والی گولیاں

یہ نئی ادویات ہیں اور بہت زیادہ استعمال میں نہیں آتیں۔

اے کاربوز
مگلی ٹول

یہ دونوں آنتوں میں کاربوہائڈرٹ کی گلوکوز میں توڑ پھوڑ کو روکتی ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتا یاگیا کاربوہائڈرٹ کوہضم کرنے کے لئے جسم اسے توڑ کر گلوکوز یعنی شوگر میں بدل دیتا ہے۔ اب اگر کم شوگرہضم ہو تو تو خون میں اس کی مقدار بھی کم رہے تو۔ یہ کچھ اتنی کامیاب دوائیں نہیں ہیں۔ نہ ان سے شوگر بہت اچھی قابو کی جاتی ہے اور نہ ان کا کھانا آرام دہ ہے کیونکہ ان سے دست اور پیٹ میں گیس کی شکایت ہو جاتی ہے۔

روزیگلیٹازون
پائیوگلیٹازون

نسبتاً نئی قسم کی دوائیں ہیں۔ یہ جسم کی انسولین کے خلاف نافرمانی کو کم کرتی ہیں۔ روزیگلیٹازونا زون کے استعمال سے دل کا مرض ہو رہا تھا لہذا یہ دل کے مرض میں نہیں دی جاتی۔ پائیوگلیٹازون دل کا مرض تو نہیں کرتی مگر جسم میں پانی اکٹھا کر سکتی ہے لہذا یہ دل کے ان مریضوں میں نہیں دی جاتی جن میں پہلے جسم میں پانی اکٹھا ہو ہوتا ہے۔  یہ آجکل اتنی استعمال نہیں ہوتیں جیسا کہ پہلے ہوتی تھیں۔

سیٹاگلیپٹن
انکریٹن نامی ہارمونوں کو بڑھاتی ہے۔ انکریٹن چھوٹی آنت اس وقت نکالتی ہے جب اُس میں گلوکوز موجود ہوتا ہے۔ انکریٹن لبلبے سے زیادہ انسولین بنواتا ہے۔ اس سے بعض لوگوں کونزلہ، سردرد اورمتلی کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اس دوا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وزن نہیں بڑھتا اورشوگر خطرناک حد تک کم نہیں ہوتی ۔ یہ گردوں کے امراض کے ساتھ بھی دے سکتے ہیں۔ انسولین کے علاوہ ذیابیطس کی بہت کم دوائیں ایسی ہیں جو گردوں کے مرض کے ساتھ بھی دی جاسکیں۔

کم استعمال ہونے والے انجکشن

ایگزینیٹائیڈ
لیراگلوٹائیڈ
انکریٹن نامی ہارمونوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ یہ انسولین زیادہ بنواتی ہیں اور معدے کو آہستہ کرتی ہیں جس سے کھانا ایک دم سے ہضم ہو کر خون میں شوگرنہیں بڑھاتا۔ ان دواؤں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ وزن نہیں بڑھاتیں۔ ان سے بعض لوگوں کو بدہضمی، متلی اور سردرد ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار ان سے لبلبے کی سوزش بھی ہو سکتی ہے جو کہ ایک خطرناک بیماری ہے۔
َ
ذیابیطس سے بچاو

پہلی قسم کی ذیابیطس سے بچاو کا تو کوئی طریقہ نہیں ہے۔ مگر دوسری سے بچا جاسکتا ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس عام طور پر موروثی ہوتی ہے اور خاندان کے اور لوگوں کو بھی ہوتی ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ ہے وزن کو کم رکھا جائے ، روزا آدھا گھنٹہ ورزش کی جائے ، خوراک میں چکنائی کا استعمال بہت کم رکھا جائے اور میٹھے کو بھی قدرے کم استعمال کیا جائے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ آپ کا وزن زیادہ ہے یا کم؟ اسے معلوم کرنے کے لئے
ننگے پاوں کھڑے ہو کر اپنا قد سینٹی میٹر میں ناپیں۔ اس کو سو سےَ تقسیم کر دیں۔ یہ آپ کا قد نکل آئے گا میٹر میں۔ فرض کریں کہ آپ کا میٹر میں قد نکلتاہے "اب پ" ۔ اب آپ اپنا وزن کریں کلوگرام میں۔ پھر اپنے وزن کو "اب پ "سے ایک دفعہ تقسیم کریں اور جو جواب آئے ا سےدوبارہ "اب پ" سے تقسیم کردیں۔ اسے باڈی ماس انڈیکس کہا جاتا ہے۔ اگر یہ جواب 18اور 25کے درمیان آتا ہے تو آپ کا وزن ٹھیک ہے۔ اگر یہ 18سے کم ہے تو آپ دبلے ہیں اور اگر 25 سے زیادہ ہے تو آپ موٹے ہیں۔ ذیابیطس میں آپ کو اپنا باڈی ماس انڈیکس  18 سے 25 کے درمیان رکھنا چاہیئے۔ زیادہ موٹے لوگوں کا باڈی ماس انڈیکس  30 یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر یہ 35سے اوپر چلا جائے توایسی صورت میں موٹاپے کو کم کرنےوالا آپریشن جس میں معدہ کی کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے دوسری قسم کی ذیابیطس میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے اور بعض اوقات تو یہ موٹے لوگوں کی جان بچانے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بہت موٹے مریضوں کے لئے خوراک کم کرکےاور ورزش کر کے اپنا وزن کم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
« Last Edit: April 16, 2014, 05:40:02 PM by Administrator »
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik