Date: 25-07-17  Time: 05:41 AM

Author Topic: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)  (Read 1981 times)

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« on: February 26, 2013, 02:17:29 PM »
sir meri wife ko 3 months before bohat teez fever ho geya tha ( thyphfied ) us ka treatment karwa rehe they k us ki zaban  band ho gai thi yani us se baat nai hoti thi , 1 month isi tarah raha phir us ne bolna shuru kia liken ab us ki zaban baat karte hoye rukti hai Dr ke pass gey tu us ne hume DYSTHYMIA ka batya MRI b karwi woh b normal hai Ab Dr ne jo madicien di hai woh hai.

tab   fluoxetine
tab   colonazepam
tab   epival

app is bare main hum ko guide karen k mazeed kya kreen ya kon sa test karween is ko use karte hoye 1.5 month ho gaye hai
thnx

Offline Doctor

  • Moderator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #1 on: February 26, 2013, 06:17:35 PM »


عمران صاحب تشریف آوری کا شکریہ

ڈستھائمیا ڈیپریشن کی ایک قسم ہے یعنی نفسیاتی بیماری ہے جس کی وجہ دماغ میں کچھ کیمیکلز کی کمی سمجھی جاتی ہے

آپ کی بیگم کے مسئلے کی وجہ کیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے کچھ اور باتوں کا جاننا بھی ضروری ہے

کیا اکثر پریشان رہنا، چھوٹی چھوٹی باتوں کا گہرا اثر لینا اور ایسی ڈرامائی علامات کا ان میں ظاہر ہونا جیسا کہ بولنا بند ہونا اُن میں پہلے بھی ہوتا رہا ہے یا یہ پہلی مرتبہ ہے؟

آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا اور بچے کتنے ہیں؟

کیا گھر کے ماحول میں یا کچھ دیگر وجوہات اُن کی ذہنی دبائو کی موجود رہی ہیں؟

شادی سے پہلے اُن کے گھر کے ماحول اور آپ کے گھر کے ماحول میں کیا کچھ نمایاں فرق ہے اور کیا ڈیپریشن سے متعلقہ مسائل شادی سے پہلے بھی تھے؟

ٹاٗیفائڈ کی تشخیص کیسے ہوئی اور بخار کتنے دن رہا؟

اُن کا علاج کس سپیشلسٹ نے کیا اور ڈستھائیمیا کی تشخیص کیا کسی سائکیاٹرسٹ نے کی؟

ان باتوں کی روشنی میں آپ کی بیگم کا مسئلہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

والسلام

Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #2 on: February 27, 2013, 06:02:20 PM »
sir app ka thanks app ne jawab diya.
sir hamari shaddi ko 11 saal ho gey hai 3 bachey hai 2 bete aur aik beti. main sapin main kaam kerta hoon pichle 2 saal se koi khas kaam hai zeyada ter farig hi reha hoon is barey main woh sochti rehti hai aur zaban ka band hona ya ab jo zaban baat kerte hoye rukti hai aisa pehli baar hoa hai haan typhiod 4,5 saalon se use her saal ho jata raha hai is saal bhi december main hoya tha Dr ke pass le ker gey they tu us ne drip laga di thi 4,5 minute main hi us ne kaha k mera damag sun ho geya hai aur tees parh rehi hai bad main isi tarah chalta raha aur zaban band ho gi  aur is ka kafi Dr se duwai li thi liken araam nai aya raha tha tu kisi ne kaha k kisi physiatrist ko dekhain tu us Dr ne hum ko yeh bataya hai.
app pls humen guide kareen k mazeed kya kareen. thnx ALLAH app ko jaza de AMEEN
« Last Edit: February 27, 2013, 06:08:37 PM by pakimran »

Offline Doctor

  • Moderator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #3 on: March 01, 2013, 04:24:58 PM »

آپ کا خط ہمارے ہاں علاج کے رائج نظام کے کئی مسائل کیطرف نشاندہی کرتا ہے

ایک بات یہ کہ ڈرپ ٹائیفائڈ کا علاج نہیں بلکہ کسی بھی بیماری کا علاج نہیں ماسوائے اُن مریضوں کے جو منہ کے راستے خوراک لینے سے قاصر ہیں یا وہ لوگ جن میں الٹیوں اور جلاب کی وجہ سے پانی کی شدید کمی ہو گئی ہے یا جند ایسی مخصوص ادویات جن کا ڈرپ کے ذریعے دیا جانا لازمی ہے اور کوئی متبادل صورت نہیں ہے، دیگر تمام صورتوں میں دوا کھانے کی صورت دی جانی چاہیئے ڈرپ کی شکل میں نہیں۔ بدقسمتی سے کمرشل معالجے کی بہت سی شکلوں میں ڈرپ ہی کو علاج سمجھ لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو مریض یا اسکے لواحقین خود ڈرپ اور ٹیکے کی فرمائش کرتے ہیں۔
یاد رکھیئے کہ ڈرپ اور انجیکشن بہت سے مسائل پیدا کر سکتے ہیں اور بلا اشد ضرورت انہیں لگانے کی ہر گز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔

بخار کے دوران یا ڈرپ لگنے کے بعد اگر بولنے میں رکاوٹ آئی تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مسئلہ کسی جسمانی عارضے سے پیدا ہوا یا کہ اس کی کوئی نفسیاتی وجہ ہوئی کیونکہ دونوں باتیں ممکن ہیں۔ اس بات کا بہتر فیصلہ تو کسی ماہر ڈاکٹر کے معائنے اور مساسب ٹیسٹوں کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔

دراصل اس معاملے میں بنیادی کردار فیملے فزیشن یا جنرل پریکٹیشنر کا ہے۔ اگر آپ کی فیملی کسی سپیشلٹ فیملی فزیشن کے زیرِ علاج رہے تو وہ ہر سٹیج پر آپ کی درجہ بہ درجہ رہنمائی کر سکتا ہے اور پیچیدہ مسائل کے سلسلے میں آپ کو متعلقہ سپیشلسٹ سے رجوع کرنے کا رستہ بھی دکھا سکتا ہے۔

اس مسئلے کی اگر کوئی جسمانی وجہ ہے تو اس کی درست تشخیص اور علاج نیوروفزیشن کا کام ہے اور اگر وجہ نفسیاتی ہے تو پھر یہ سائیکاٹرسٹ کا کام ہے۔

ویسے خواتین میں نفسیاتی عوامل کی وجہ سے بولنے سے متعلقہ مسائل پیدا ہونا ہمارے ہاں عام ہے۔

اگر آپ نے سائیکاٹرسٹ سے علاج شروع کروایا ہے تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ڈیپریشن کی ادویات اپنا اثر شروع کرنے میں دو سے چار ہفتے کا وقت لیتی ہیں۔

آپ کے علاج کو کتنا وقت ہوا ہے اور کیا اس سے کوئی خاطر خواہ افاقہ ہوا؟

آپ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کیا آپ کی فیملی بھی آپ کے ساتھ سپین میں مقیم ہے یا وہ لوگ پاکستان میں ہی رہتے ہیں؟

والسلام


Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #4 on: March 01, 2013, 08:29:33 PM »
sir meri family pakistan main hi rehti hai yeh jo medicien de rehe hai woh physiatrist ne hi di hai aur usi Dr ne hum ko is ka bataya tha is ke baad hum eik aur neuro physcion ke pass b gye they tu us Dr ne b yehe medicine di thi.  medicine se faraq para hai bus kabi kabi baat kerte hoye lafaz ataktey hai Dr ne bola tha k 6 months app ko mediceine use kerni par gi. bus ab kabhi kabhi nagtive sochna suruh ker deti hai maslan main aaj kal farig hoon tu yeh kehe gi k ab pata nai kaam mile ga ya nai etc etc. main us ko bara hosla deta rehta hoon.
asal main mera pochne ka matlab yeh tha k is ka koi test hota hai. aur mujje aur mazeed kya kerna chaye.
« Last Edit: March 01, 2013, 08:32:14 PM by pakimran »

Offline Doctor

  • Moderator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #5 on: March 01, 2013, 09:24:21 PM »

عمران صاحب
ایم آر آئی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ سائیکاٹرسٹ اور نیوروفزیشن ڈیپریشن کی تشخیص پر متفق ہیں نیز علاج سے بہتری بھی ہو رہی ہے۔
اس صورتحال میں کسی اور علاج یا ٹٰسٹ کروانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
بہتر یہی ہے کہ علاج کو باقاعدگی سے جاری رکھا جائے اور دیگر ایسے مسائل جو کہ پریشانی کا باعث بنتے ہیں اُن کا سدِباب کیا جائے۔

ایک اور بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ ایسے امراض میں مرض کے بارے میں زیادہ گفتگو سے بھی پرہیز کرنا چاہیے اور مریض کی توجہ دیگر اہم باتوں کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کرنی چاہیے جیسا کہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے معاملات۔
لواحقین کی جانب سے مرض کو زیادہ اہمیت اور توجہ دینا بھی ایسے امراض میں علامات بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

والسلام
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #6 on: March 02, 2013, 10:09:02 AM »
sir asal main yehi masla bana hoa hai jo koi b ata hai woh nai baat ker k hi jata hai mera tu kai k sath isi baat per talhi bhi hoi hai koi kehta hai k app falan Dr k pass jao us bohat acha hai ya falan k pass jao aur koi yeh kehta hai k kisi ne jadoo ker diya hai app log Dr k pass na jao kisi dam kerne wale k pass jao app ki sare test theak hai app per kisi ne jadoo kya hoa hai. main tu thak geya hoa hoon in baton se. yahan sub log adhe Dr aur  adhe mulan hain.

Offline Administrator

  • Administrator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 93
  • Karma: +15/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #7 on: March 02, 2013, 01:38:47 PM »


آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ میں آپ کی پریشانی سمجھ رہا ہوں۔
ہمارے لوگوں کی ایک بری عادت یہ ہے کہ وہ ہر اُس بات کے بارے میں اپنی رائے دینا ضروری سمجھتے ہیں جس کے بارے میں اُن کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ خصوصاً صحت سے متعلق مسائل پر تو ہر کوئی عالم ہے۔ ہم یہ بات سوچنے کو تیار نہیں ہوتے کہ طب کے شعبے میں کسی معاملے پر رائے دینے کیلیئے سالہا سال کا علم اور تجربہ درکار ہے۔ ایک ڈاکٹر کم و بیش دس سال کی تعلیم اور تجربے کے بعد ہی آزادانہ پریکٹس کے قابل ہوتا ہے۔

بہتر رویہ یہ ہوگا کہ کسی بھی معاملے میں اس شعبے کے ماہر کو اپنا مشیر بنایا جائے اور ہر کسی کی رائے پر عمل نہ کیا جائے۔ ہاں ہمارے ماحول کے آداب کے تحت لوگوں کی رائے کو سُن ضرور لیا جائے تا کہ کسی کی دلشکنی نہ ہو۔

صحت کے معاملے میں ترقی یافتہ ممالک میں آپ کا پہلا مشیر فیملی فزیشن ہوتا ہے جس کے پاس آپ رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور ہر بیماری کی صورت میں اسی سے رجوع کرتے ہیں۔ وہی اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کیا کسی ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہے یا کسی سپیشلٹ سے مشورے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ دوا لینی ہے یا نہیں اور اگر لینی ہے تو کونسی۔ آپ تو خود یورپ میں رہ رہے ہیں آپ نے تو وہاں کے طبی نظام کو دیکھا ہو گا۔ سپین اگرچہ باقی یورپ اور امریکہ کے ہم پلہ نہیں لیکن پھر بھی ہمارے بہ نسبت نظام بہتر ہی ہو گا۔

دیکھیں اگر آپ نے عدالت میں کوئی چھوٹا سا کیس بھی کرنا ہو تو اپنے لیے وکیل ڈھونڈتے ہیں اور اسی کے مشورے سے چلتے ہیں لیکن صحت کے معاملے میں ہر شخص وکیل بننے کو تیار ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کچھ بیماریاں ٹھیک ہونے میں وقت لیتی ہیں اور دوا دارو اُن میں کچھ خاص کام نہیں کرتا۔ سو جب بہتری کا وقت آتا ہے تو جو بھی علاج کر رہا ہو کامیابی اسی کے نام ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اعتقاد بنتے ہیں۔

« Last Edit: March 02, 2013, 11:06:36 PM by Administrator »

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #8 on: March 02, 2013, 10:54:13 PM »
SIR APP KI BAAT SOLA ANE THEAK HAI MAI NE EUROPE KA HOSPITAL SYSTEM DEKHA HAI SUB KO GOVT KI TARAF SE EK DR MILTA HAI AUR JUB B KOI MASLA HOTA HAI TU USI K PASS JANA PARTA HAI AGE US KA KAAM HAI WOH KON SE TEST KARWATA HAI YA KIS K PASS REFER KERTA HAI AUR SIR APP KA BOHAT BOHAT SUKRIA APP NE MUJE REPLY KYA APP KI BATOON SE MAIN NE BOHAT KUCH SAMJA HAI.
ALLAH APP KO KUSH RAKHEEN.
AMEEN

Offline Administrator

  • Administrator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 93
  • Karma: +15/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #9 on: March 02, 2013, 11:12:25 PM »

عمران صاحب میڈیسن پاکستان کی ویب سائیٹ شروع کرنے کا مقصد ہی اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو صحت اور بیماری سے متعلق درست اور جدید معلومات فراہم کرنا ہے۔
ہمارے ہاں نظامِ صحت کے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ درست معلومات حاصل کرنے کی کوئی تسلی بخش جگہ موجود نہیں۔ بہت سے عناصر طب کے نام پر اپنے کاروبار کی خاطر معصوم لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آپ کو جب بھی کوئی مشورہ درکار ہو بلا تکلف یہاں کا رخ کیجیے۔ انشاللہ ہماری یہی کوشش ہو گی کہ آپ کی درست رہنمائی کی جائے

فی امان اللہ
« Last Edit: March 03, 2013, 09:24:36 AM by Administrator »

Offline pakimran

  • Member
  • **
  • Posts: 18
  • Karma: +0/-0
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #10 on: June 29, 2013, 11:16:23 PM »
aslamolaqum sir.

Dr saab main ne yeh masla pehle b discuss kya tha abhi jis DR se medison le rehe hai woh medical speciliest hai, sir meri wife 2 week pehle tak kafi theak thi liken ghar main kuch bateen hoi tu us ki tension us ne li hai tu us ki zaban phir band ho gai thi liken ALLAH ka sukar hai k 2 din bad zaban bohat behter ho gai thi Dr saab ke pass le ker geya tu unhoon ne yeh wali medicion di hain.
tab   fluoxetine  20mg     (1+0+1)
tab   colonazepam 0.5g   aur yeh hasb-e-zaroorat lini hai.
aur dosra main ne jaga change ker li hai liken DR saab main bohat preshaan hoon kyun k ab us ki thinking nagtive hai her baat ka galat matlab leti hai merne ki bateen kerti hai aur kabhi kabhi kuch aisi harkat ker jati hai jis ko aam log kehte hai k yeh mental hai. ab app pls muje guide kareen k is ko kisi psychologist ke pass le ker jaoon ya kisi aur k pass aur muje mazeed kya kerna ho ga.
w.salam

Offline Doctor

  • Moderator
  • Sr. Member
  • *****
  • Posts: 152
  • Karma: +10/-0
  • Dedicated to serve humanity
    • View Profile
Re: dysthymia ki information ( brain camicial disorder)
« Reply #11 on: June 30, 2013, 12:43:57 AM »
اگر ممکن ہو تو بہتر یہی ہے کہ سائیکارسٹ یا کلینیکل سائیکالوجسٹ یا دونوں ہی سے باقاعدہ مشورہ کریں۔
جب تک مرض کی بنیاد تک رسائی نہ ہو اور پھر اس کا درست توڑ نہ کیا جائے مسائل کا حل ہونا مشکل ہے۔
Struggle is the sign of life & till death it must continue.

Dr Malik